بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے

احمد عظیم

بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے

احمد عظیم

MORE BYاحمد عظیم

    بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    رہیں جو ساتھ تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    پھلوں کے ہونے سے شاخیں فقط لچکتی ہیں

    پھلوں کے گرنے سے شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    تمہارے ذکر کی عادت ہوئی ہے ایسی انہیں

    کچھ اور بولیں تو ہونٹوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    بس ایک چہرے کو سپنے میں دیکھنے کے لئے

    تمام عمر کی نیندوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    عظیمؔ دور کے رشتوں کو دور رکھا کر

    وگرنہ پاس کے رشتوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY