بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

ڈاکٹر اعظم

بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

ڈاکٹر اعظم

MORE BYڈاکٹر اعظم

    بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

    کہ جس کی قیمت کردار طے ہے

    ہوا تھا حادثہ کچھ اور لیکن

    لکھے گا اور کچھ اخبار طے ہے

    بڑے آنگن پہ اتراؤ نہ اتنا

    اٹھے گی اس میں بھی دیوار طے ہے

    ہے نا لائق مگر سردار کا ہے

    بنے گا بیٹا ہی سردار طے ہے

    ہے منصف ہی گرفتار تعصب

    عدالت میں ہماری ہار طے ہے

    نہ لے جا ہم کو اس محفل میں اے دل

    جہاں ہونا ذلیل و خوار طے ہے

    ہنر ہے ایسے رشتوں کو نبھانا

    جہاں ہر بات پر تکرار طے ہے

    سدا سچ بولتے ہو تم بھی اعظمؔ

    تمہارے واسطے بھی دار طے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY