بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا

جمال احسانی

بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا

جمال احسانی

MORE BYجمال احسانی

    بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا

    وہ ہو رہا ہے یہاں جو نہ ہونے والا تھا

    اور اب یہ چاہتا ہوں کوئی غم بٹائے مرا

    میں اپنی مٹی کبھی آپ ڈھونے والا تھا

    ترے نہ آنے سے دل بھی نہیں دکھا شاید

    وگرنہ کیا میں سر شام سونے والا تھا

    ملا نہ تھا پہ بچھڑنے کا غم نہ تھا مجھ کو

    جلا نہیں تھا مگر راکھ ہونے والا تھا

    ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں

    پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY