بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

فاطمہ حسن

بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    بکھر رہے تھے ہر اک سمت کائنات کے رنگ

    مگر یہ آنکھ کہ جو ڈھونڈتی تھی ذات کے رنگ

    ہمارے شہر میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں

    سفر کی سمت بتاتے ہیں جن کو رات کے رنگ

    الجھ کے رہ گئے چہرے مری نگاہوں میں

    کچھ اتنی تیزی سے بدلے تھے ان کی بات کے رنگ

    بس ایک بار انہیں کھیلنے کا موقع دو

    خود ان کی چال بتا دے گی سارے مات کے رنگ

    ہوا چلے گی تو خوشبو مری بھی پھیلے گی

    میں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنی بات کے رنگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY