بنائے سجدہ ہوں سجدے کی ابتدا ہوں میں

حرماں خیرآبادی

بنائے سجدہ ہوں سجدے کی ابتدا ہوں میں

حرماں خیرآبادی

MORE BY حرماں خیرآبادی

    بنائے سجدہ ہوں سجدے کی ابتدا ہوں میں

    جو خود نما ہیں وہ دیکھیں خدا‌ نما ہوں میں

    مرا وجود ہے اعلان کلمۂ توحید

    جہاں میں غیب سے آئی ہوئی ندا ہوں میں

    مجھے سلائے گی اب کیا ہوائے خواب فنا

    ضیائے حسن سے بیدار ہو چکا ہوں میں

    اجل کا کام نہیں میری حل مشکل میں

    کہ منزل غم ہستی سے بڑھ گیا ہوں میں

    کشش مری یہیں منزل کو کھینچ لائے گی

    یہی تو ناز ہے مجھ کو شکستہ پا ہوں میں

    جبین شوق کو کیا امتیاز دیر و حرم

    کسے خبر ہے کہ کس در پہ جبہ سا ہوں میں

    کسی کی لوح جبیں پر شکن یہ کہتی ہے

    کہ بے خودی میں کوئی راز کہہ گیا ہوں میں

    بس اے تلاطم طوفان آرزو بس کر

    کہ اب تباہ سفینے کا ناخدا ہوں میں

    مآل کشمکش درد کچھ ہوا حرماںؔ

    سنا ہے موت کی اک نیند لے رہا ہوں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Scan File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY