بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے

الیاس بابر اعوان

بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے

الیاس بابر اعوان

MORE BYالیاس بابر اعوان

    بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے

    وقت ایسا ہے سوالات نہیں کر سکتے

    فیس بک کا بھی تعلق ہے تعلق کیسا

    دیکھ سکتے ہیں ملاقات نہیں کر سکتے

    اتنا گہرا ہے یہاں کنج خرافات کا شور

    لوگ اب طرفہ مناجات نہیں کر سکتے

    اڑ تو جائیں شجر خام کے زنداں سے ہم

    دوست ہے دوست سے ہم ہاتھ نہیں کر سکتے

    اتنا سفاک ہے احساس کا منظر نامہ

    لوگ اندازۂ صدمات نہیں کر سکتے

    کیا یہ کم صدمہ ہے دو طرفہ ملاقات کے بیچ

    بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے

    بس کوئی دکھ ہے جس بار نمو کرنا ہے

    جس کو ہم رزق عبارات نہیں کر سکتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے