بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

ابرار احمد کاشف

بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

ابرار احمد کاشف

MORE BYابرار احمد کاشف

    بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

    ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے

    ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی

    اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے

    میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے

    میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے

    تو ادھر کیسے ارے چاندنی صورت والے

    یہ وہ دھندا ہے جو آنکھوں میں جلن چاہتا ہے

    وصل کے بعد بھی پوری نہیں ہوتی خواہش

    اور کچھ ہے جو یہ نادیدہ بدن چاہتا ہے

    سونے سونے سے ہیں لفظوں کے شوالے کاشفؔ

    ایسا لگتا ہے کہ اظہار بدن چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY