بوسیدہ جسم و جاں کی قبائیں لیے ہوئے

آس فاطمی

بوسیدہ جسم و جاں کی قبائیں لیے ہوئے

آس فاطمی

MORE BYآس فاطمی

    بوسیدہ جسم و جاں کی قبائیں لیے ہوئے

    صحرا میں پھر رہا ہوں بلائیں لیے ہوئے

    دل وہ عجیب شہر کہ جس کی فصیل پر

    نازل ہوا ہے عشق بلائیں لیے ہوئے

    میں وحشت جنوں ہوں مری مشت خاک کو

    پھرتی ہیں در بہ در یہ ہوائیں لیے ہوئے

    دیکھا بغور اپنی خودی کا جو آئنہ

    ابھرے ہزار چہرہ خطائیں لیے ہوئے

    اک شور گونجتا ہے مسلسل خلاؤں میں

    ہے لفظ کن بھی کتنی صدائیں لیے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY