بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

اختر شیرانی

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا

    وہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیں

    بسے ہوئے ہیں نگاہوں میں وہ حسیں کوچے

    ہر ایک ذرہ جہاں کم ز آفتاب نہیں

    وہ باغ و راغ کے دلچسپ و دل نشیں منظر

    کہ جن کے ہوتے ہوئے خلد مثل خواب نہیں

    وہ جوئبار رواں کا طرب فزا پانی

    شراب سے نہیں کچھ کم اگر شراب نہیں

    برنگ زلف پریشاں وہ موج ہائے رواں

    کہ جن کی یاد میں راتوں کو فکر خواب نہیں

    سما رہے ہیں نظر میں وہ مہوشان حرم

    حرم میں جن کے ستارے بھی باریاب نہیں

    وطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔ

    کہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 226)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY