بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

ارمان نجمی

بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

ارمان نجمی

MORE BYارمان نجمی

    بجھی نہیں ابھی یہ پیاس بھی غنیمت ہے

    زباں پہ کانٹوں کا احساس بھی غنیمت ہے

    رواں ہے سانس کی کشتی اسی کے دھارے پر

    یہ ایک ٹوٹی ہوئی آس بھی غنیمت ہے

    نشاں نمو کے ہیں کچھ تو بساط صحرا پر

    جھلستی جلتی ہوئی گھاس بھی غنیمت ہے

    پھر اس کے بعد تمہاری شناخت کیا ہوگی

    روایتوں کی یہ بو باس بھی غنیمت ہے

    وہ اب بھی ملتا ہے اپنی ادائے خاص کے ساتھ

    کہ وضع داری کا یہ پاس بھی غنیمت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY