بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا

احمد سجاد بابر

بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا

احمد سجاد بابر

MORE BYاحمد سجاد بابر

    بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا

    ہجراں کی کڑی شب میں اذیت سے لڑا تھا

    رکتا ہی نہیں تجھ پہ نگاہوں کا تسلسل

    کل شام ترے ہاتھ میں کنگن بھی نیا تھا

    اک چشم توجہ سے ادھڑتا ہی گیا تھا

    وہ زخم کہ جس کو بڑی محنت سے سیا تھا

    برگد کے اسی پیڑ پہ اتریں گے پرندے

    سیلاب زدہ گھر کے جو آنگن میں کھڑا تھا

    درویش کی کٹیا کے یہ لاشے پہ بنی ہے

    ویران شکستہ سی حویلی پہ لکھا تھا

    تصویر میں اس کو ہی سر بام دکھایا

    مزدور زمانے کے جو پاؤں میں پڑا تھا

    وہ زخم جدائی کا بھلا کیسے دکھے گا

    ملبہ جو مرے جسم کا اندر کو گرا تھا

    بابرؔ ہو کہ بہکا ہوا جھونکا یا ستارہ

    تیری ہی گلی میں ہمیں جاتا وہ ملا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY