بجھتی رگوں میں نور بکھرتا ہوا سا میں

کبیر اجمل

بجھتی رگوں میں نور بکھرتا ہوا سا میں

کبیر اجمل

MORE BYکبیر اجمل

    بجھتی رگوں میں نور بکھرتا ہوا سا میں

    طوفان ننگ موج گزرتا ہوا سا میں

    ہر شب اجالتی ہوئی بھیگی رتوں کے خواب

    اور مثل عکس خواب بکھرتا ہوا سا میں

    موج طلب میں تیر گیا تھا بس ایک نام

    پھر یوں ہوا کہ جی اٹھا مرتا ہوا سا میں

    اک دھند سی فلک سے اترتی دکھائی دے

    پھر اس میں عکس عکس سنورتا ہوا سا میں

    دست دعا اٹھا تو اٹھا اس کے ہی حضور

    لیکن یہ کیا اسی سے مکرتا ہوا سا میں

    اب کے ہوا چلے تو بکھر جاؤں دور تک

    لیکن تری گلی میں ٹھہرتا ہوا سا میں

    میں بجھ گیا تو کون اجالے گا تیرا روپ

    زندہ ہوں اس خیال میں مرتا ہوا سا میں

    اجملؔ وہ نیم شب کی دعائیں کہاں گئیں

    اک شور آگہی ہے بکھرتا ہوا سا میں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 283)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے