بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

ظفر گورکھپوری

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

    زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں

    دکھائے بیچ دریا کون رستہ

    فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں

    معانی کیا رہے خودداریوں کے

    کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں

    یہ پورا سچ ہے تم مانو نہ مانو

    کہ اچھے دن تمہارے جا چکے ہیں

    بھنک تک بھی نہ پہنچی اس کی ہم تک

    ہمارے دن گزارے جا چکے ہیں

    اب اس اندھے کنوئیں کو بند کر دو

    کئی بچے ہمارے جا چکے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY