بریدہ گیسوؤں میں آنکھ کا رستہ نہیں تھا

محمد اظہار الحق

بریدہ گیسوؤں میں آنکھ کا رستہ نہیں تھا

محمد اظہار الحق

MORE BY محمد اظہار الحق

    بریدہ گیسوؤں میں آنکھ کا رستہ نہیں تھا

    وہ چہرہ خوب صورت تھا مگر دیکھا نہیں تھا

    میں جب ساحل پہ اترا خلق میری منتظر تھی

    کئی دن ہو گئے تھے بادشاہ ملتا نہیں تھا

    بلاتے تھے ہمیں انجیر اور زیتون کے پھل

    مگر وادی میں جانے کا کوئی رستہ نہیں تھا

    تنا یاقوت کا شاخیں زمرد کی بنی تھیں

    ثمر لعل و گہر تھے نخل کا سایہ نہیں تھا

    پروں میں آئنے منقار میں تاج شہی تھا

    پرندہ قاف سے آیا مگر اڑتا نہیں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites