بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا

بیدم شاہ وارثی

بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    بت بھی اس میں رہتے تھے دل یار کا بھی کاشانہ تھا

    ایک طرف کعبے کے جلوے ایک طرف بت خانہ تھا

    دلبر ہیں اب دل کے مالک یہ بھی ایک زمانہ ہے

    دل والے کہلاتے تھے ہم وہ بھی ایک زمانہ تھا

    پھول نہ تھے آرائش تھی اس مست ادا کی آمد پر

    ہاتھ میں ڈالی ڈالی کے ایک ہلکا سا پیمانہ تھا

    ہوش نہ تھا بے ہوشی تھی بے ہوشی میں پھر ہوش کہاں

    یاد رہی خاموشی تھی جو بھول گئے افسانہ تھا

    دل میں وصل کے ارماں بھی تھے اور ملال فرقت بھی

    آبادی کی آبادی ویرانے کا ویرانہ تھا

    اف رے باد جوش جوانی آنکھ نہ ان کی اٹھتی تھی

    مستانہ ہر ایک ادا تھی ہر عشوہ مستانہ تھا

    شمع کے جلوے بھی یارب کیا خواب تھا جلنے والوں کا

    صبح جو دیکھا محفل میں پروانہ ہی پروانہ تھا

    دیکھ کے وہ تصویر مری کچھ کھوئے ہوئے سے کہتے ہیں

    ہاں ہاں یاد تو آتا ہے اس شکل کا اک دیوانہ تھا

    غیر کا شکوہ کیوں کر رہتا دل میں جب امیدیں تھیں

    اپنا پھر بھی اپنا تھا بیگانہ پھر بیگانہ تھا

    بیدمؔ اس انداز سے کل یوں ہم نے کہی اپنی بیتی

    ہر ایک نے سمجھا محفل میں یہ میرا ہی افسانہ تھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے