بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

شیخ علی بخش بیمار

بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

شیخ علی بخش بیمار

MORE BYشیخ علی بخش بیمار

    بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

    جو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیے

    سوال یار سے کیسا کمال الفت کا

    کہ ابتدا بھی تو ہے شرط انتہا کے لیے

    خدا سے تجھ کو صنم مانگتے تو مل جاتا

    مگر ادب نے اجازت نہ دی دعا کے لیے

    عذاب آتش فرقت سے کانپتا تھا دل

    ہزار شکر جہنم ملا سزا کے لیے

    نہ دل لگا کے ہوا مجھ سے عشق میں پرہیز

    بگڑ گیا جو کسی نے کہا دوا کے لیے

    ملا انہیں بھی تلون مجھے بھی یک رنگی

    خصوصیت نہ رہی صرصر و صبا کے لیے

    خدا نے کام دئے ہیں جدا جدا سب کو

    صنم جفا کے لیے ہیں تو ہم وفا کے لیے

    جہاں نورد رہے ہم تلاش مطلب میں

    چلے نہ ایک قدم غیر مدعا کے لیے

    مشاعرہ میں پڑھو شوق سے غزل بیمارؔ

    کہ مستعد ہیں سخن سنج مرحبا کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY