بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں

حاتم علی مہر

بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں

حاتم علی مہر

MORE BYحاتم علی مہر

    بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں

    خدا کا آسرا ہے اور میں ہوں

    یہاں آ کر کریں کیا یاس و امید

    دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

    ملا جو خاک میں قدموں سے چھٹ کے

    وہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں

    خدا جانے بتو ہوتا ہے کیا حال

    یہی گر دل مرا ہے اور میں ہوں

    ذرا آنے تو دے روز قیامت

    صنم تو ہے خدا ہے اور میں ہوں

    ستم ہے ظلم ہے ان کی طرف سے

    محبت ہے وفا ہے اور میں ہوں

    پسند اے مہرؔ ہے یہ قول استاد

    صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY