بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

وفا ملک پوری

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

وفا ملک پوری

MORE BYوفا ملک پوری

    بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

    فریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیا

    مرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا

    تمہاری چشم سخن در سخن کا ساتھ دیا

    تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے

    جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا

    بہار آئی تو محروم‌ رنگ و بو ہیں وہی

    جنوں نے دور خزاں میں چمن کا ساتھ دیا

    بجھے جو پچھلے پہر تیری انجمن کے چراغ

    تو داغ دل نے مرے انجمن کا ساتھ دیا

    چمن میں ایک ہمیں رہ گئے خزاں کے لئے

    کہ بلبلوں نے بھی رنگ چمن کا ساتھ دیا

    خدا کی شان کہ ننگ وطن وہ کہلائیں

    جنہوں نے مر کے بھی خاک وطن کا ساتھ دیا

    خدا کا شکر کہ میت تو ڈھک گئی اپنی

    غبار راہ نے اک بے کفن کا ساتھ دیا

    کبھی جو بزم میں اس بت کی بات آ نکلی

    جناب شیخ نے بھی برہمن کا ساتھ دیا

    وہ طرز نو ہو کہ طرز کہن وفاؔ ہم نے

    ہر ایک طرح مذاق سخن کا ساتھ دیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY