بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

راج نرائن راز

بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

راج نرائن راز

MORE BYراج نرائن راز

    بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

    قدرت کے آدمی سے عجب سلسلے رہے

    وہ شخص کیا ہوا جو مقابل تھا! سوچیے!

    بس اتنا کہہ کے آئنے خاموش ہو گئے

    اس آس پر کہ خود سے ملاقات ہو کبھی

    اپنے ہی در پہ آپ ہی دستک دیا کئے

    پتے اڑا کے لے گئی اندھی ہوا کہیں

    اشجار بے لباس زمیں میں گڑے رہے

    کیا بات تھی کہ ساری فضا بولنے لگی!

    کچھ بات تھی کہ دیر تلک سوچتے رہے

    ہر سنسناتی شے پہ تھی چادر دھوئیں کی رازؔ

    آکاش میں شفق تھی نہ پانی پہ دائرے

    میں نے غزل کہی ہے منورؔ مگر کہاں!

    پوچھے گا رازؔ کون! میاں شعر کچھ کہے؟

    مآخذ
    • کتاب : Monthly Usloob (Pg. 376)
    • Author : Mushfiq Khawaja
    • مطبع : Usloob 3D 9—26 Nazimabad karachi   180007 (Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6)
    • اشاعت : Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY