چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے

رنگیں سعادت یار خاں

چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے

رنگیں سعادت یار خاں

MORE BYرنگیں سعادت یار خاں

    چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے

    دوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئے

    پھر نئے سر سے یہ جی میں ہے کہ دل کو ڈھونڈیئے

    خاک کوچے کی ترے مدت ہوئی چھانے ہوئے

    تھا جہاں مے خانہ برپا اس جگہ مسجد بنی

    ٹوٹ کر مسجد کو پھر دیکھا تو بت خانے ہوئے

    ہے یہ دنیا جائے عبرت خاک سے انسان کی

    بن گئے کتنے سبو کتنے ہی پیمانے ہوئے

    عقل و ہوش اپنے کا رنگیںؔ ہو گیا سب اور رنگ

    کشور دل میں جب آ کر عشق کے تھانے ہوئے

    مآخذ:

    • کتاب : intekhaab-e-sukhan(avval) (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY