چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

رشید قیصرانی

چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

رشید قیصرانی

MORE BYرشید قیصرانی

    چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

    ساری دنیا بول رہی ہے کتنے سندر سندر جھوٹ

    اشکوں کو موتی کہتا ہوں رخساروں کو پھول

    میں لفظوں کا سوداگر ہوں میرے باہر اندر جھوٹ

    کھوٹے سکے لے کر گھومیں ہم دونوں بازاروں میں

    تیری آنکھ کے موتی جھوٹے میرے من کا مندر جھوٹ

    میں نے کہا جلووں کا مسکن اجلے چہرے اونچی ذات

    سب نے کہا تم سچ کہتے ہو بولا ایک قلندر جھوٹ

    دنیا بھر میں ایک حقیقت سچا ایک وجود رشیدؔ

    ورنہ سارے جنگل پربت صحرا اور سمندر جھوٹ

    مأخذ :
    • کتاب : Fasiil-e-lab (Pg. 90)
    • Author : Rashiid Qaisarani
    • مطبع : Aiwan-e-urdu Taimuriya karachi (1973)
    • اشاعت : 1973

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY