چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا

خواجہ جاوید اختر

چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا

خواجہ جاوید اختر

MORE BYخواجہ جاوید اختر

    چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا

    کیا بد نصیب تھا وہ کہیں کا نہیں رہا

    دنیا کے انہماک میں دیں کا نہیں رہا

    گھر اس کا جس جگہ تھا وہیں کا نہیں رہا

    یہ اور بات ہے کہ ہمیں اعتبار ہو

    ورنہ زمانہ آج یقیں کا نہیں رہا

    ہاں کہہ کے اپنی جان بچانے لگے ہیں لوگ

    یعنی کہ اب زمانہ نہیں کا نہیں رہا

    پیشانیوں پہ نقش تو سجدے کا بن گیا

    لیکن کہیں نشان جبیں کا نہیں رہا

    جاویدؔ اپنے فکر و نظر آسماں سے لا

    پیارے زمانہ خاک نشیں کا نہیں رہا

    مآخذ
    • کتاب : Neend Shart Nahin (Pg. 29)
    • Author : Khawaja Jawed Akhtar
    • مطبع : Shabkhoon Kitabghar Allahabad (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY