چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

منشی امیر اللہ تسلیم

چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

منشی امیر اللہ تسلیم

MORE BY منشی امیر اللہ تسلیم

    چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے

    آپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دکھلائے مجھے

    آس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں

    کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

    دل دھڑکتا ہے شب غم میں کہیں ایسا نہ ہو

    مرگ بھی بن کر مزاج یار ترسائے مجھے

    لے چلو للہ کوئی خضر مینا کے حضور

    عالم گم گشتگی کی راہ بتلائے مجھے

    اب تو جوش آرزو تسلیمؔ کہتا ہے یہی

    روضۂ شاہ نجف اللہ دکھلائے مجھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY