چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی

پروین کیف

چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی

پروین کیف

MORE BYپروین کیف

    چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی

    ساتھ کوئی تو سہیلی جاتی

    آؤ مل جل کے سہیں ہجر کی دھوپ

    مجھ سے تنہا نہیں جھیلی جاتی

    بولنا مجھ سے نہ تم بند کرو

    ہر طرف بات ہے پھیلی جاتی

    ہم اگر عقل کو درباں کرتے

    ہاتھ سے دل کی حویلی جاتی

    ہائے صندل کے درختوں کی یہ راکھ

    جان خوشبو کی نہ لے لی جاتی

    بن تو سکتا تھا نیا اک کمرہ

    اپنے آنگن کی چنبیلی جاتی

    پیاس جاتی نہ اگر ساحل پر

    کیوں سمندر میں اکیلی جاتی

    چاند جھانکے جو کچن میں پروینؔ

    مجھ سے روٹی نہیں بیلی جاتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY