چاند ان آنکھوں نے دیکھا اور ہے

جینت پرمار

چاند ان آنکھوں نے دیکھا اور ہے

جینت پرمار

MORE BYجینت پرمار

    چاند ان آنکھوں نے دیکھا اور ہے

    شہر دل پہ جگمگاتا اور ہے

    لمس کی وہ روشنی بھی بجھ گئی

    جسم کے اندر اندھیرا اور ہے

    اے سمندر راستہ دینا مجھے

    لوح جاں پہ نام لکھا اور ہے

    وہ جو چڑیا ناچتی ہے شاخ پر

    اس کے اندر ایک چڑیا اور ہے

    موڑ پر رک جائے کہ کچی سڑک

    ساتھ چلتا ہے وہ رستہ اور ہے

    ہجر کے سائے نہ تصویر خزاں

    یار اس کے گھر کا رستہ اور ہے

    تالیوں سے ہال سارا بھر گیا

    جانتا ہوں شعر سچا اور ہے

    RECITATIONS

    جینت پرمار

    جینت پرمار,

    جینت پرمار

    چاند ان آنکھوں نے دیکھا اور ہے جینت پرمار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY