چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں

علی اکبر ناطق

چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں

    کھو گیا اک شخص مجھ سے، دیکھے بھالے شہر میں

    مندروں کے صحن میں صدیوں پرانی گھنٹیاں

    دیویوں کے حسن کے کہنہ حوالے شہر میں

    سرد راتوں کی ہوا میں اڑتے پتوں کے مثیل

    کون تیرے شب نوردوں کو سنبھالے شہر میں

    کانچ کی شاخوں پہ لٹکے تیری وحشت کے ثمر

    تیری وحشت کے ثمر بھی ہم نے پالے شہر میں

    دل کے ریشوں سے ردائے نور بنتے مٹ گئے

    شب کی فصلوں میں نہیں آساں اجالے شہر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے