چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

نبیل احمد نبیل

چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

    موسم ایسے ہوش اڑانے لگتے ہیں

    ملبہ گرنے لگتا ہے سب کمرے کا

    جب تیری تصویر جلانے لگتے ہیں

    گھبرا کے اس دور کے وحشی انساں سے

    دیواروں کو راز بتانے لگتے ہیں

    آنکھ اٹھا کر جب بھی دیکھوں پیڑوں کو

    مجھ کو میرے دوست پرانے لگتے ہیں

    ذہن میں ماضی جب بھی گھومنے لگتا ہے

    آنکھ میں کتنے آنسو آنے لگتے ہیں

    دل کے ہاتھوں ہو کے ہم مجبور سدا

    ارمانوں کی لاش اٹھانے لگتے ہیں

    پتھر جیسی دنیا ہے خود غرضی ہے

    اس کو کیوں کر درد سنانے لگتے ہیں

    ساتھ مرے وہ مل کر چاند ستارے بھی

    ہجر میں تیرے نیر بہانے لگتے ہیں

    یار نبیلؔ انہیں میں جتنا بھولتا ہوں

    مجھ کو یاد وہ اتنا آنے لگتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY