چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

ظفر محمود ظفر

چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

ظفر محمود ظفر

MORE BYظفر محمود ظفر

    چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

    ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے

    خموش لب ہے جو دریا تو خیر ہے سب کی

    بگڑ گیا تو وہ بستی نگل بھی سکتا ہے

    چلو اے تشنہ لبو ہم اٹھائیں دست دعا

    کہ آسمان دعا سے پگھل بھی سکتا ہے

    مناؤ جشن مکمل بہار آنے پر

    ابھی نیا سا ہے موسم بدل بھی سکتا ہے

    وہ پھول جیسا بدن چاندنی سے ہے ڈرتا

    کہ چاندنی میں بدن اس کا جل بھی سکتا ہے

    تمہیں تو شوق ہے پھولوں کے ساتھ رہنے کا

    ہمارا عزم جو کانٹوں پہ چل بھی سکتا ہے

    ہے آسماں کی بلندی میں گھر ظفرؔ جس کا

    زمیں کی حد سے وہ باہر نکل بھی سکتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : خموش لب (Pg. 76)
    • Author : ظفر محمود
    • مطبع : عرشیہ پبلی کیشنز دہلی۔95 (2019)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے