چڑھتا سورج اڑتا بادل بہتا دریا کچھ بھی نہیں

تنویر گوہر

چڑھتا سورج اڑتا بادل بہتا دریا کچھ بھی نہیں

تنویر گوہر

MORE BYتنویر گوہر

    چڑھتا سورج اڑتا بادل بہتا دریا کچھ بھی نہیں

    سارا تماشا میرے لئے ہے لیکن میرا کچھ بھی نہیں

    ان کی ننھی انگلی تو اب کمپیوٹر سے کھیلے ہے

    آج کے بچوں کی نظروں میں چندا ماما کچھ بھی نہیں

    میرے پیاسے ہونٹوں ہی سے بس دریا کی قیمت ہے

    تشنہ لبی کا مول ہے سارا ورنہ دریا کچھ بھی نہیں

    اس نے ہم کو ہلدی کیا دی ہم پنساری بن بیٹھے

    لینے والے مالک ٹھہرے دینے والا کچھ بھی نہیں

    تیرا میرا کرتے کرتے عمر گزاری جاتی ہے

    سچ تو یہ ہے تیرا میرا میرا تیرا کچھ بھی نہیں

    ہم نظروں نظروں میں اپنے دل کا سودا کر بیٹھے

    سوچا سمجھا کچھ بھی نہیں اور دیکھا بھالا کچھ بھی نہیں

    ان رشتوں کی بھیڑ میں اکثر مجھ کو ایسا لگتا ہے

    ساری دنیا اپنی سگی ہے لیکن اپنا کچھ بھی نہیں

    لاکھ کریں ہم سجدہ زمیں پر لاکھ جبیں کو گھس ڈالیں

    صاف نہ ہو گر نیت گوہرؔ تو پھر سجدہ کچھ بھی نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY