چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے

شہزاد نیر

چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے

شہزاد نیر

MORE BYشہزاد نیر

    چہچہاتی بولتی آنکھوں کا اونچا شور ہے

    شام کے دھندلے شجر پر کتنا اچھا شور ہے

    آشنائی کا سفر تھا اور کتنی خامشی

    واپسی کا راستہ ہے اور کتنا شور ہے

    ذات کی تنہائی میں کوئی نہیں ہوتا شریک

    بند ہیں گاڑی کے شیشے اندر اپنا شور ہے

    دور کے دالان سے آتی صداؤں کی مہک

    اور ابلتے چاولوں کا دھیما دھیما شور ہے

    وہ ہے خالی گھر کی صورت میں بھرا بازار ہوں

    اس کے جیسی خامشی ہے میرے جیسا شور ہے

    شہر سے بہتر تو ویرانے کا سناٹا ہی تھا

    کیسی کیسی بولیاں ہیں کیسا کیسا شور ہے

    ختم کر ڈالے گا اک پل میں سکوت بے دلی

    کھیل کے میدان سے آیا ہے زندہ شور ہے

    رات کے پچھلے پہر کا بے صدا جنگل سمجھ

    میری خاموشی کے اندر بے تحاشا شور ہے

    اس طرف آتا نہیں کوئی کہ اس سے پوچھ لوں

    آسماں کے پار سے اٹھتا یہ کیسا شور ہے

    کان میں کہرام دل میں کھولتی آواز کا

    لوگ لب بستہ ہیں چہروں سے ابلتا شور ہے

    ہاؤ ہو فریاد چیخیں نالۂ دل داد گاں

    جھوٹ ہیں سارے دلاسے اور سچا شور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY