چلا چل مہلت آرام کیا ہے

صبا اکبرآبادی

چلا چل مہلت آرام کیا ہے

صبا اکبرآبادی

MORE BYصبا اکبرآبادی

    چلا چل مہلت آرام کیا ہے

    مسافر اور تیرا کام کیا ہے

    ہمارا واسطہ ہے ان کے ڈر سے

    ہمیں سارے جہاں سے کام کیا ہے

    تمہارا حسن تو ہے غیر فانی

    ہمارے عشق کا انجام کیا ہے

    خدا کا نام لینا چاہتا ہوں

    مگر میرے خدا کا نام کیا ہے

    سواد شام مے خانہ سلامت

    بیاض جامۂ احرام کیا ہے

    تم اپنے آئینے سے پوچھ لیتے

    ہمارے عشق پر الزام کیا ہے

    ہمیں خود راستہ چلنا نہ آیا

    فراز و پست پر الزام کیا ہے

    سنو اے آشیاں کے خشک تنکو

    بہار باغ کا پیغام کیا ہے

    خرد کے مسئلے حل کرنے والو

    تمہیں میرے جنوں سے کام کیا ہے

    خبر خود موج طوفاں کو نہیں ہے

    سفینے کا مرے انجام کیا ہے

    بہ راہ راست ان کو مانگتا ہوں

    تکلف کا دعا میں کام کیا ہے

    حد پرواز جب سمٹی تو سمجھے

    قفس کیا آشیاں کیا دام کیا ہے

    صباؔ ترک محبت کر رہے ہو

    محبت سے ضروری کام کیا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 258)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY