چلے تو راہ میں چبھنے لگے تھے سناٹے

محمد اسد اللہ

چلے تو راہ میں چبھنے لگے تھے سناٹے

محمد اسد اللہ

MORE BY محمد اسد اللہ

    چلے تو راہ میں چبھنے لگے تھے سناٹے

    رکے تو شور سا اندر سنائی دیتا ہے

    یہ کس نے رکھ دی ہے دفتر میں گھر کی خاموشی

    جو گھر میں آئیں تو دفتر سنائی دیتا ہے

    الگ سا شور جو اپنے ہی گھر میں سنتے ہو

    نکل کے دیکھو تو گھر گھر سنائی دیتا ہے

    مجھے وہ کیوں مری تنہائیوں میں ملتا ہے

    وہ کون ہے مجھے اکثر سنائی دیتا ہے

    وہ حدتیں ترے لہجے کی کیا ہوئیں آخر

    ترے لبوں سے دسمبر سنائی دیتا ہے

    تمام شہر سماعت کا جبر سہتا ہے

    یہ کیسا شور برابر سنائی دیتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY