چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا

ابھنندن پانڈے

چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا

ابھنندن پانڈے

MORE BY ابھنندن پانڈے

    چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا

    ہمیں ملے نہیں اس کو ہمیں خدا تو ملا

    نشاط قریۂ جاں سے جدا ہوئی خوشبو

    سفر کچھ ایسا ہے اب کے کوئی ملا تو ملا

    ہمارے بعد روایت چلی محبت کی

    نظام عالم ہستی کو فلسفہ تو ملا

    جو چھوڑ آئے تھے تسکین دل کے واسطے ہم

    تمہیں اے جان تمنا وہ نقش پا تو ملا

    سوال آ گئے آنکھوں سے چھن کے ہونٹوں پر

    ہمیں جواب نہ دینے کا فائدہ تو ملا

    یہ آہ و گریہ و زاری کہیں تو کام آئی

    ہوائے دشت کو پانی کا ذائقہ تو ملا

    نماز عصر نہیں پڑھ سکی مری وحشت

    جنون عشق کو میدان کربلا تو ملا

    پھر اس کے بعد بر آمد نہ ہو سکا کچھ بھی

    ہمارے آنکھ میں جلتا ہوا دیا تو ملا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY