چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے

انیس احمد انیس

چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے

انیس احمد انیس

MORE BYانیس احمد انیس

    چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے

    ہمارے در سے مگر آپ مہرباں گزرے

    جدھر بھی آپ گئے بس گئے ہیں ویرانے

    اجڑ گئے ہیں چمن ہم جہاں جہاں گزرے

    ہمیں مٹانے کی گر کوششیں تمام ہوئیں

    تو یہ بھی کہئے کہ ہم کتنے سخت جاں گزرے

    وہ صبح و شام کی رنگینیاں تمام ہوئیں

    صعوبتوں کی کڑی دھوپ ہے جہاں گزرے

    وہ اپنے دامن پارہ پہ بھی نگاہ کرے

    جہاں میں مجھ پہ اٹھا کر جو انگلیاں گزرے

    حیات و موت کا حل کر چکے ہیں ہر عقدہ

    اب ہم کو خوف نہیں لاکھ امتحاں گزرے

    انیسؔ آپ کو دیکھا ہے ہر گھڑی مصروف

    کبھی تو چین سے دو چار دن میاں گزرے

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 65)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY