چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی

امیر امام

چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی

امیر امام

MORE BYامیر امام

    چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی

    رات ہوتی جائے گی سنسان ہوتی جائے گی

    دیکھنا کیا ہے نظر انداز کرنا ہے کسے

    منظروں کی خود بہ خود پہچان ہوتی جائے گی

    اس کے چہرے پر مسلسل آنکھ رک سکتی نہیں

    آنکھ بار حسن سے ہلکان ہوتی جائے گی

    سوچ لو یہ دل لگی بھاری نہ پڑ جائے کہیں

    جان جس کو کہہ رہے ہو جان ہوتی جائے گی

    کر ہی کیا سکتی ہے دنیا اور تجھ کو دیکھ کر

    دیکھتی جائے گی اور حیران ہوتی جائے گی

    کاکل خم دار میں خم اور آتے جائیں گے

    زلف اس کی اور بھی شیطان ہوتی جائے گی

    آتے آتے عشق کرنے کا ہنر آ جائے گا

    رفتہ رفتہ زندگی آسان ہوتی جائے گی

    جا چکیں خوشیاں تو اب غم ہجرتیں کرنے لگے

    دل کی بستی اس طرح ویران ہوتی جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY