چلتے ہیں کہ اب صبر بھی اتنا نہیں رکھتے

آلوک مشرا

چلتے ہیں کہ اب صبر بھی اتنا نہیں رکھتے

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    چلتے ہیں کہ اب صبر بھی اتنا نہیں رکھتے

    اک اور نئے دکھ کا ارادہ نہیں رکھتے

    بس ریت سی اڑتی ہے اب اس راہ گزر پر

    جو پیڑ بھی ملتے ہیں وہ سایہ نہیں کرتے

    کس طور سے آخر انہیں تصویر کریں ہم

    جو خواب ازل سے کوئی چہرہ نہیں رکھتے

    اک بار بچھڑ جائیں تو ڈھونڈھے نہ ملیں گے

    ہم رہ میں کہیں نقش کف پا نہیں رکھتے

    پھر صلح بھی تم بن تو کہاں ہونی تھی خود سے

    سو ربط بھی اب خود سے زیادہ نہیں رکھتے

    اس موڑ پہ روٹھے ہو تم اے دوست کہ جس پر

    دشمن بھی کوئی رنج پرانا نہیں رکھتے

    کیا سوچ کے زندہ ہیں ترے دشت میں یہ لوگ

    آنکھوں میں جو اک خواب کا ٹکڑا نہیں رکھتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY