چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی

کوثر نیازی

چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی

    پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی

    کرۂ ارض نے دیکھا ہی نہ تھا وہ خورشید

    جس کی گردش میں شب و روز مری ذات رہی

    اب تو ہر شخص اجالوں میں کھڑا ہے عریاں

    کون سی شکل پس پردۂ ظلمات رہی

    سرد مہری مرے لہجے میں بھی ہوگی لیکن

    تجھ میں خود بھی تو نہ پہلی سی کوئی بات رہی

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثرؔ

    لیکن اب سوچ ذرا کیا تری اوقات رہی

    مأخذ :
    • کتاب : mata-e-sukhan (Pg. 297)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY