چند سانسیں ہیں مرا رخت سفر ہی کتنا

فضا ابن فیضی

چند سانسیں ہیں مرا رخت سفر ہی کتنا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    چند سانسیں ہیں مرا رخت سفر ہی کتنا

    چاہئے زندگی کرنے کو ہنر ہی کتنا

    چلو اچھا ہی ہوا مفت لٹا دی یہ جنس

    ہم کو ملتا صلۂ‌ حسن نظر ہی کتنا

    کیا پگھلتا جو رگ و پے میں تھا یخ بستہ لہو

    وقت کے جام میں تھا شعلۂ تر ہی کتنا

    کس خطا پر یہ اٹھانا پڑی راتوں کی صلیب

    ہم نے دیکھا تھا ابھی خواب سحر ہی کتنا

    ہم بھی کچھ دیر کو چمکے تھے کہ بس راکھ ہوئے

    سچ تو یہ ہے کہ رم و رقص شرر ہی کتنا

    طرز احساس میں ندرت تھی ادھر ہی کتنی

    فکر و جذبے میں توازن ہے ادھر ہی کتنا

    دے دیئے خسرو و شیریں نے اسے موڑ کئی

    ورنہ یوں فاصلۂ تیشہ و سر ہی کتنا

    تیرا عرفان تو کیا خود کو نہ پہچان سکا

    تھا مرا دائرہ علم و خبر ہی کتنا

    یک قدم بیش نہیں شب کی مسافت لیکن

    ایک ٹوٹے ہوئے تارے کا سفر ہی کتنا

    اے فضاؔ دامن الفاظ ہے اب بھی خالی

    تھا یہاں شاخ معانی پہ ثمر ہی کتنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY