چراغ درد کبھی یوں بجھے بجھے تو نہ تھے

میر نقی علی خاں ثاقب

چراغ درد کبھی یوں بجھے بجھے تو نہ تھے

میر نقی علی خاں ثاقب

MORE BY میر نقی علی خاں ثاقب

    چراغ درد کبھی یوں بجھے بجھے تو نہ تھے

    ہم اپنے آپ سے اتنے کھنچے کھنچے تو نہ تھے

    فسون چشمۂ سیل رواں کی عمر دراز

    ان آنسوؤں میں سمندر رکے رکے تو نہ تھے

    شب فراق ان آنکھوں میں کٹ گئی ہوگی

    ملے وہ کل بھی تھے لیکن تھکے تھکے تو نہ تھے

    وہ سانس لیتی ہوئی تشنگی وہ نہر فرات

    لبوں پہ پیاس کے دریا تھمے تھمے تو نہ تھے

    وہ آنکھ اب بھی سمجھتی ہے اجنبی ہم کو

    مگر ہم اہل نظر یوں نئے نئے تو نہ تھے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY