چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے

انجم سلیمی

چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے

    سو مجھ مریض انا کو شفا مصیبت ہے

    سہولتیں تو مجھے راس ہی نہیں آتیں

    قبولیت کی گھڑی میں دعا مصیبت ہے

    اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو

    پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے

    میں آج ڈوب چلا ریت کے سمندر میں

    چہار سمت یہ رقص ہوا مصیبت ہے

    خود آگہی کا جو مجھ پر نزول جاری ہوا

    میں کیا کہوں کہ یہ رحمت ہے یا مصیبت ہے

    بہت جچا ہے یہ بے داغ پیرہن مجھ پر

    گو خاک زاد کو ایسی قبا مصیبت ہے

    میں کم ہی رہتا ہوں انجمؔ خدا کی صحبت میں

    گناہ گار کو خوف خدا مصیبت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY