چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

جمال احسانی

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

جمال احسانی

MORE BY جمال احسانی

    چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

    یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

    جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل

    وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا

    یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے

    یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا

    ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو

    نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا

    جمالؔ پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ

    اسے بھی یاد نہ تھا میرے دھیان میں بھی نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites