چشم نم لے کے چلو قلب تپاں لے کے چلو

نور بجنوری

چشم نم لے کے چلو قلب تپاں لے کے چلو

نور بجنوری

MORE BYنور بجنوری

    دلچسپ معلومات

    (روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ راولپنڈی ) (ادبی ایڈیشن11 ستمبر1982ء)

    چشم نم لے کے چلو قلب تپاں لے کے چلو

    ایک پتھر کے لئے شعلۂ جاں لے کے چلو

    شاید اس کو بھی شب ہجر نظر آ جائے

    اپنی پلکوں پہ چراغوں کا دھواں لے کے چلو

    اس کو چاہا ہے تو پھر سنگ ملامت بھی چنو

    پھول توڑے ہیں تو اب کوہ گراں لے کے چلو

    بے حقیقت ہیں وہاں لعل و گہر شمس و قمر

    دشمن جاں کے لئے تحفۂ جاں لے کے چلو

    ایک بار اور اسے دیکھ لوں مرتے مرتے

    میرا قاتل ہے کہاں مجھ کو وہاں لے کے چلو

    اس کے ہونٹوں سے چرا لو کوئی رنگین سا خواب

    اس کی زلفوں سے کوئی ابر رواں لے کے چلو

    نورؔ در پیش ہے اب تم کو خزاؤں کا سفر

    اس کے عارض سے بہاروں کا سماں لے کے چلو

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Gazle.n (Pg. 171)
    • Author : Nasir Zaidi
    • مطبع : Zahid Malik (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY