چشم و گیسو کا کوئی ذکر نہ رخسار کی بات

خالد یوسف

چشم و گیسو کا کوئی ذکر نہ رخسار کی بات

خالد یوسف

MORE BYخالد یوسف

    چشم و گیسو کا کوئی ذکر نہ رخسار کی بات

    بیٹھ کر کیجئے ان سے در و دیوار کی بات

    یہ ادائیں یہ اشارے یہ حسیں قول و قرار

    کتنے آداب کے پردے میں ہے انکار کی بات

    رات بھر جس کی تمنا میں جلے ہیں ہم لوگ

    وہ سحر شیخ کی نظروں میں ہے کفار کی بات

    بزم اغیار اگر ہو تو بچھے جاتے ہیں

    اور کرتے ہیں وہ ہم سے رسن و دار کی بات

    مدح صیاد بہرحال ضروری تو نہیں

    چپ رہو یہ بھی ہے اب جرأت کردار کی بات

    کس بھروسے پہ کریں عشق کا سودا خالدؔ

    وقت شاید ہے کہ رہتی نہیں تلوار کی بات

    مآخذ:

    • کتاب : Shora-e-London (Pg. 83)
    • Author : Jauhar Zahiri
    • مطبع : Books From India (U.K) Ltd. 45, Museum Street,Londan W.C-1 (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY