چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں (ردیف .. ے)

محمد اسد اللہ

چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں (ردیف .. ے)

محمد اسد اللہ

MORE BYمحمد اسد اللہ

    چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں

    یہاں ہر پل بکھرنے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے

    کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے

    کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھاتا ہے

    کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا

    کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے

    فضائیں ایک مدت سے اذانوں کو ترستی ہیں

    یہاں ہر شخص حرف حق فقط کانوں میں کہتا ہے

    کہیں خود کو کسی شے کی طرح میں بھول آیا ہوں

    یہاں رہتے ہوئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے

    ہواؤں کے علاوہ کون آئے گا ہمارے گھر

    نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY