چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

سلیم بیتاب

چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

سلیم بیتاب

MORE BYسلیم بیتاب

    چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

    وہ آنکھ میرے درد کی تفسیر بن گئی

    میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں

    دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی

    ہر سمت ہیں کٹی پڑی پھولوں کی گردنیں

    اب کے صبا ہی باغ میں شمشیر بن گئی

    اس کی نظر تو کہتی تھی پرواز کے لیے

    میری ہی سوچ پاؤں کی زنجیر بن گئی

    جس سمت وہ اٹھی ہے ادھر مڑ گئی حیات

    اس کی نظر ہی گردش تقدیر بن گئی

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 02.07.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY