چہروں پہ لکھا ہے کوئی اپنا نہیں ملتا

جاذب قریشی

چہروں پہ لکھا ہے کوئی اپنا نہیں ملتا

جاذب قریشی

MORE BYجاذب قریشی

    چہروں پہ لکھا ہے کوئی اپنا نہیں ملتا

    کیا شہر ہے اک شخص بھی جھوٹا نہیں ملتا

    چاہت کی قبا میں تو بدن اور جلیں گے

    صحرا کے شجر سے کوئی دریا نہیں ملتا

    میں جان گیا ہوں تری خوشبو کی رقابت

    تو مجھ سے ملے تو غم دنیا نہیں ملتا

    زلف و لب و رخسار کے آذر تو بہت ہیں

    ٹوٹے ہوئے خوابوں کا مسیحا نہیں ملتا

    میں اپنے خیالوں کی تھکن کیسے اتاروں

    رنگوں میں کوئی رنگ بھی گہرا نہیں ملتا

    ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو

    ساحل کو جلانے سے اجالا نہیں ملتا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY