چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی

چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی

MORE BY غلام مرتضی راہی

    چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے

    کب سے بارش تھمی سی رہتی ہے

    کوئی شب دھوپ کی سی کیفیت

    کوئی دن چاندنی سی رہتی ہے

    ایک ہستی مری عناصر چار

    ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے

    کیسے جی بھر کے دیکھیے اس کو

    دیکھنے میں کمی سی رہتی ہے

    کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا

    غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے

    جب سے مائل ہوئے ہیں میرے قدم

    راہ مجھ سے کھنچی سی رہتی ہے

    اک نہ اک شغل چاہیے اس کو

    مجھ میں دیوانگی سی رہتی ہے

    تیر اندھیرے میں جب چلاتا ہوں

    دھیان میں روشنی سی رہتی ہے

    شاخ امید کو خزاں نہ بہار

    یہ سب دن ہری سی رہتی ہے

    ایک خطے کے بوجھ سے راہی

    ساری دنیا دبی سی رہتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY