چھیڑا ہے نیا نغمہ حیات ابدی نے

رفیق راز

چھیڑا ہے نیا نغمہ حیات ابدی نے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    چھیڑا ہے نیا نغمہ حیات ابدی نے

    اس بار تبسم نہ کیا سن کے کلی نے

    لفظوں میں اترنے کا ہنر سیکھ رہا ہوں

    خطرے میں ہیں الفاظ کے سینوں میں دفینے

    وہ ہیں کہ بھٹکتے ہیں ابھی پیاس کے مارے

    ہم ہیں کہ ڈبو آئے سرابوں میں سفینے

    سنتا ہوں تڑپتے ہوئے پانی کا فقط شور

    حساس بنایا ہے مجھے تشنہ لبی نے

    افلاک کے منظر ہیں مرے سامنے عریاں

    بخشی یہ بلندی مجھے بے بال و پری نے

    شاداب نظر آتے ہیں اشجار ہر اک سمت

    کیا شہر میں جنگل کی ہوا لائی کسی نے

    پہلو میں دھڑکتا ہے تڑپتا ہے شب و روز

    بے چین کئے رکھا ہے مجھ کو مرے جی نے

    جو راستے جاتے ہیں ترے عرش کی جانب

    وہ رستے بھی دکھلائے مجھے در بہ دری نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے