چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے

عقیل عباس

چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے

عقیل عباس

MORE BY عقیل عباس

    چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے

    اک برہمن کو مساوات سے کیا لینا ہے

    خاک کو خاک کا پیوند لگے گا اور بس

    ہم کو اس ارض و سماوات سے کیا لینا ہے

    آپ تو سوچ کے آئے تھے یہاں کیا ہوگا

    آپ کو یوں بھی مضافات سے کیا لینا ہے

    آگ کی سرخ لپٹ نے مجھے پاگل رکھا

    خون کی لہر کو اس گھات سے کیا لینا ہے

    زخم پر ہاتھ رکھیں اور روانہ ہو لیں

    اس اندھیرے میں مناجات سے کیا لینا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY