چھپ گیا یار خود نما ہو کر

حسن بریلوی

چھپ گیا یار خود نما ہو کر

حسن بریلوی

MORE BYحسن بریلوی

    چھپ گیا یار خود نما ہو کر

    رہ گئی چشم شوق وا ہو کر

    بے قراروں سے ان کو شرم آئی

    شوخیاں رہ گئیں حیا ہو کر

    کیا کہوں کیا ہے میرے دل کی خوشی

    تم چلے جاؤ گے خفا ہو کر

    روٹھ کر ان سے ہم کہاں جیتیں

    وہ منا لیتے ہیں خفا ہو کر

    پھنس گیا دل تو چھوڑ دو ہم کو

    اب کہاں جائیں گے رہا ہو کر

    دل سے کچھ کہہ رہی ہیں وہ آنکھیں

    دیکھیں کیا ٹھہرے مشورا ہو کر

    ہاتھ اٹھا کر تلاش دل سے حسنؔ

    بیٹھ رہئے شکستہ پا ہو کر

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Sukhan(Jild-2) (Pg. 132)
    • Author : Hasrat Mohani
    • مطبع : uttar pradesh urdu academy (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY